زریں باب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - درخشاں حصہ، مہتم بالشان حصہ، اہم حصہ، قیمتی فصل یا جزو۔ "اردو اور انجمن کے لیے بابائے اردو نے جو کچھ کیا وہ تاریخ اردو کا ایک زریں باب ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٢/اگست، (ادبی صفحہ) )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'زریں' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'باب' لگانے سے اسم صفت 'زریں اصول' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٨٨ء کو "جنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - درخشاں حصہ، مہتم بالشان حصہ، اہم حصہ، قیمتی فصل یا جزو۔ "اردو اور انجمن کے لیے بابائے اردو نے جو کچھ کیا وہ تاریخ اردو کا ایک زریں باب ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٢/اگست، (ادبی صفحہ) )